Press "Enter" to skip to content

ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ذلت ہوگی۔ایران کے اہم رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک روز قبل جاری کیے گئے بیان پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا جس میں امریکی صدر نے ایران کو غیر مشروط مذاکرات کی دعوت دی تھی۔تاہم کئی عوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ مئی 2015 میں جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد امریکا کے ساتھ مذاکرات کا سوچنا ناممکن ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی مطاہری نے کہا کہ’ ٹرمپ کے توہین آمیز بیانات کے بعد امریکا سے مذاکرات ناقابل تصور ہیں، یہ ایک ذلت ہوگی‘۔فارس نیوز کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا کہ’ امریکا بھروسے کے قابل نہیں ہے جس تکبر اور یک طرفہ فیصلے کے بعد امریکا جوہری معاہدے سے الگ ہوا تو اس پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔‘امریکا 6 اگست سے ایران پر ایک مرتبہ پھر پابندیاں عائد کرنے کیلئے تیار ہے، اس اقدام سے پہلے ہی ایرانی کرنسی کی قدر گرنا شروع ہوچکی ہے اور پچھلے چھ ماہ کے دوران ریال کی قدر میں دو تہائی کمی آئی ہے۔گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہم منصب صدر روحانی کو ٹوئٹر پر دھمکی دی تھی کہ اگر ایران امریکا کو دھمکانا نہیں چھوڑتا تو ایران کو ایک بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔تہران یونیورسٹی کے تجزیہ کار محمد نے کہا کہ ’ ہم ایسے ملک سے مذاکرات نہیں کرسکتے جو عالمی وعدوں کی خلاف ورزی کرے، دوسرے ممالک کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے اور مسلسل اپنے بیانات تبدیل کرتا رہے‘۔ محمد مرندی جوہری معاہدے کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔اس کے برعکس بعض ایرانی حکام ایسے بھی ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے خارجہ امور کے سربراہ حشمت اللہ فلاحت نے نیم سرکاری نیوز ایجنسی اسنا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’امریکا کے ساتھ مذاکرات ممنوع نہیں ہونے چاہئیں‘ ۔فلاحت نے کہا کہ ’ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس ایران سے جنگ کی صلاحیت نہیں ہے لیکن اس تاریخی بد اعتمادی کی وجہ سے سفارتی تعلقات خراب ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔دوسری جانب علی مطاہری نے کہا کہ وہ لوگ جو ایک عرصے تک امریکا سے کسی بھی طرح کی مفاہمت کے مخالفت تھے، جوہری معاہدہ ختم ہونے پر اپنے الزامات سے بھی آگاہ کریں۔انہوں نے کہا کہ کہ ’اگر پورے ایرانی نظام نے اس معاہدے پر عمل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو آج ایران میں یورپی کمپنیاں سرمایہ کاری کررہی ہوتیں اور ٹرمپ اتنی آسانی سے معاہدہ ختم نہیں کرپاتے۔‘مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وزرات خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا تھا کہ ٹرمپ کے بیان کے بعد ’دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی گنجائش نہیں‘ ۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ امریکا روز بروز اپنا ناقابل بھروسہ رویہ ظاہر کررہا ہے ‘۔امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی مہم ایران کو ایک نئی ڈیل پر مجبور کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، جو اس کے جوہری توانائی پروگرام کو پابند کردے گی اور اس کے ساتھ ہی ایران کے علاقائی برتاؤ اور میزائل پروگرام پر بھی پابندیاں عائد کرے گی۔

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *