بریکنگ نیوز

عدل ہی ہماری بقاء کا ضامن ہے، سنےئر جسٹس سر د ا ر طا ر ق مسعو د

15,10,15
کلر سیداں(پر و یز و کی سے )لا ہو ر ہا ئی کو ر ٹ ر ا و لپنڈ ی بنچ کے سنےئر جسٹس سر د ا ر طا ر ق مسعو د نے کہا ہے کہ بنچ اور بار کے مابین گہرے روابط کو مضبوط کر کے ہی سائلین کو جلد از جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا جا سکتا۔وکلا ء ملکی مفادات اور ملک کے مستقبل کو مقدم سمجھتے ہوئے ذاتی مفاد اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر اپنے اندر اتحاد پیدا کریں اور وکلاء برادری میں بدنامی کا باعث بننے والی کالی بھیڑوں کا صفایا کر دیں۔ان خیالات کا اظہارا نہو ں نے جمعر ا ت کے ر و ز کلر سیداں میں زیر تعمیر جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔سر د ا ر طا ر ق مسعو د نے کہا کہ عدل ہی ہماری بقاء کا ضامن ہے۔اسلام میں عدل کو خدائے بزرگ و برتر کی صفت سمجھا جاتا ہے اور ترویج انصاف ایک مذہبی فریضہ ہے جو ایک ناقابل تسخیر قلعہ کی مانند ہے جسے کبھی بھی نہ تو شورش برپا کر کے تباہ کرسکتی ہے اور نہ ہی دشمنوں کی طاقت اس کو مسمار کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلا ء لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ملتان،بہاولپور اور لاہور میں بھی تعینات رہے ہیں جہاں لوگوں نے راولپنڈی بار کی تعریف کی،جوڈیشل آفسران راولپنڈی آنا فخر محسوس کرتے ہیں میں چاہتا ہوں کلر سیداں کے وکلا ء بھی ایسی مثال قائم کریں۔انہوں نے کہا کہ وکلاء کی زبان میں گالی نہیں دلیل ہونی چاہے،یہ مانی ہوئی بات ہے کہ وکلاء میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں جن کی تعداد دو فیصد ہے، 98 فیصد وکلاء کالی بھیڑوں کا احتساب کریں۔انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کا تعلق ایک ایسی دھرتی سے ہے جس نے سابق چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل ٹکا خان مرحوم، سابق چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل عبدالعزیز مرزا،چوہدری زمرد خان ایڈووکیٹ مرحوم ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیراز کیانی اور جسٹس (ر) چوہدری طارق جیسی ہستیوں کو جنم دیا۔انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ بھی فخر کی بات ہے کہ میں اسی علاقہ میں پلا بڑا اور اعلی مقام تک پہنچا۔آج اسی جگہ اپنی تحصیل کے لوگوں کو ان کے گھروں کی دہلیز پر جلد انصاف کی فراہمی کیلئے جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح کر رہا ہوں جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔انہوں نے اپنے ماضی کے جھرونکوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ پچاس برس پیچھے جائیں تو یہاں قائم پرائمری سکول پٹاری میں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا جو صرف ایک کمرہ پر مشتمل تھا۔سکول میں ٹاٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے میں گھر سے بوری لے کر آتا۔سکول میں ایک درخت بھی تھا جہاں گرمیوں میں اس کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کی جاتی اور بارش کے موقع پر جلد چھٹی دے دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلر سیداں کے بورڈ میں میٹرک کے نتائج میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں میں ان کا نام بھی شامل ہے جو میرے خاندان اور میرے لئے فخر کی بات ہے۔انہوں نے اس موقع پر کلر سیداں بار ایسوسی ایشن کے رکن چوہدری اسد الرحمان ایڈووکیٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے سلسلہ میں ہمیشہ میرے ساتھ رابطہ میں رہے اور فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کلر سیداں میں تعینات سول جج محترمہ ساجدہ احمد چوہدری اورمحکمہ بلڈنگز کی انتھک کاوشوں کی تعریف کی جن کی محنتوں سے جوڈیشل کمپلیکس کی تکمیل ممکن ہوئی۔اس موقع پر جسٹس طارق مسعود نے کلر سیداں بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ گلفراز احمد ایڈووکیٹ کو لائبریری کیلئے دو لاکھ مالیت کا چیک فراہم کیا۔جسٹس طارق مسعود سمیت جسٹس مامون رشید شیخ،جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی اور دیگر جسٹس صاحبان کو سوینےئرز پیش کئے گئے۔تقریب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد اعظم سورایہ،صدر کلر بار ایسوسی ایشن راجہ گلفرار احمد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔جسٹس شہباز علی رضوی،جسٹس محمد امیر بھٹی،ایڈیشنل سیشن جج امجد اقبال رانجھا،محمد عاشق اعوان،محمد اشرف بھٹی،زائد اقبال رانا،سول ججز اظہر اقبال خان،محمد اقبال سپرا،محمد قدیر بٹ،شاہد حمید چوہدری،آصف نیاز،سپریم کورٹ آف پاکستان کے ممتاز قانون دان اور جسٹس سردار طارق مسعود کے بڑے بھائی سردار محمد اسحاق خان سمیت راولپنڈی اور کلر سیداں بار ایسویشن کے عہدیداران اور وکلاء برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*