بریکنگ نیوز

میری شناخت میری اپنی دھرتی ہے

munawar naqviتحریر:سیدمنورنقوی

کراچی میں حالیہ دنوں ایک سرکاری سکول میں نوعمر طلبہ کی خود کشی کا وقعہ آج کل میڈیا پر خوب اچھالا جارہا ہے اور ہر روز مختلف پہلو سے واقع کے بارے میں نت نئی کہانیاں سنائی جارہی ہیں، ہر سکول وکالج میں بھی معصوم طلبہ بھی رائے زنی کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں یہ واقع ہمارے معاشرے کی ہر گز عکاسی نہیں کرتا اور اس کے زمہ داری بچوں کے والدین،اساتذہ،سکول انتظامیہ سب پر عائد ہوتی ہے ہم سب خود کو یہ یا ان جیسے واقعات سے نظر چرانے کے بجائے کھلے دل سے اپنی غلطیوں اور کوتایؤں کی زمہ داری قبول کرنی ہوگی جب ہمارے معاشرے میں اغیار کا کلچر بلا روک ٹوک پھیلایا جائے گا تو اس کے اثرات سے ہم محفوظ کیسے رہ سکیں گے کیا بناوٹی اور غیر اسلامی سوشل وار کا مقابلہ کرنے کے بجائے خود کو حصہ بنا کر خود ساختہ مادڑن لباس پہن کر اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کا مستبل محفوظ بنا سکتے ہیں نہیں ہر گز نہیں ان بچوں نے جانے کون سی انڈین فلم کا سین دیکھا ہوگاکہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے پر تل گے ہمارے ملک میں میڈیا کی آزادی زیادہ پرانی نہیں آج بھی ہمارا میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا تجربات کے مراحل سے گزر رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا اور فیس بک انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے جعلی اکاؤنٹ دھڑا دھڑا بنائے جارہے ہیں جن کا غلط اور صحیح میں فرق ہونا جائز نہیں سمجھا جاتا ہے ،جہاں بے حیائی ،اور معاشرے کے منفی پہلوں پر کھلم کھلا پرچار کیا جارہا ہے سرے عام لوگوں کی عزتیں اچھالی جارہی ہیں اور غیر ممالک اسلامی ممالک اور خاص طور پر پاکستان کی نوجوان نسل کا مستقبل تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں جب بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسی چیزوں کی روک تھام کے لئے نہ کوئی موثر قانون موجود ہے نہ ہی کوئی مانیٹرنگ کا نظام جس سے انٹر نیٹ کا استعمال منفی انداز میں زیادہ کیا جارہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹر نیٹ نے دنیا بھر کو گلوبل ولج میں تبدیل کردیا ہے مگر اس کی وجہ سے سوشل میڈیا کینسر کی طرح ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کررہا ہے کراچی سکول کے بچوں کی خود کشی کے واقعہ کو جس انداز میں پیش کیا جارہا ہے اور روز بروز اس کہانی کے اندر سے کھوج لگائی جارہی ہے گمان ہے کہ معصوم بچوں کے زہینوں کو الجھایا جارہا ہے یہ واقعہ ہمارے معاشرے کا عکاسی نہیں کرتا نہ ہمارا دین اس کی اجازت دیتا ہے موبائل فونز ،دولت کی ریل پیل،مصروفیات اور بچوں کے معاملات سے لاعلمی دین سے دوری نہ ہمیں آج اس نازک موڑ پر کھڑا کردیا ہے جہاں ہم اپنی تبائی کے زمہ دار بھی خود ہیں موبائل فونز ،اور فیس بک نے تو ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال کررک دیا ہے،
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہمیں اپنے نوجوانوں کو معاشرتی بیماریوں سے دور رکھنے کے لئے آنکھیں چرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنا سیکھنا چائے غیر اسلامی اقدار سے دور رکھنے کے لئے دینی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی اور مشرقی معاشرے میں فرق سے بھی آگاہ کرنا ہوگا ورنہ قصور جیسے واقعات جس میں سینکروں معصوم بچے اور والدین ازیت ناک اور شرم ناک حالات سے دوچار ہوچکے ہیں اور اب ان کی روک تھام کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگیا ہے میڈیا کو بھی اپنی حدیں پھلانگنے سے گریز کرنا چائے ورنہ پنجابی فلموں کی طرح لوگ ایک دن نمبر سازی اور ریٹنگ بڑھانے والے ٹی وی چینلوں سے اگتا کر منہ موڑ لیں گے جو ہر وقت افراء تفری ڈر خوف کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا سکتے دہشت گردی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ آج ملک کی معشیت تباہ اور عوام زہنی مریض بن چکے ہیں میری شناخت میری اپنی دھرتی ہے ہم ایک اسلامی ریاست کے باشندے ہیں تاہم بدقسمتی سے جو منظر کشی ہمارے معاشرے کی جارہی وہ ہماری پہچان نہیں اور نہ ہی ان چیزوں کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت یا گنجائش ہے یہ اغیار کا ایجنڈا ہے جو ہم پر مسلط کیا جارہا اور ہم جدید دور کے جدید دلدل کے اندر دھنستے جارہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*