بریکنگ نیوز

سید مزمل حسین شاہ نے جنت میں عید منائی ہو گی ؟

mumraz-247x300( روپورٹ ممراز شیخ اسلام پورہ جبر)mumrazi@hotmail.com
موت برحق ہے ہر زی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اس ذات کا دستور ہے جس کے قبضہ میں ہم سب کی جان ہے کس نے کتنی زندگی جینا ہے موت کا وقت مقرر ہے پر انسان کو پتہ نہیں کہ کب موت آنی ہے اور کس ٹائم آنی ہے یہ اس ذات کو پتہ ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے یو ں سمجھ لیے ہمارہ جینا دراصل موت کی طرف سفر جیسا ہے ،یہ نظام قدرت ہے اس بات کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا ،یہ بھی نیک لوگ جو اللہ پاک کو پسند آ جائیں تو اللہ پاک ان کو بہت جلد اپنی طرف بلا لیتا ہے ،موت کیسے کیسے روپ بدل کر آتی ہے کبھی پہلے بیماری بھیج کر جسم کو اچھی طرح بھسم کرتی ہے کبھی ایذائیں دے کر ترسا ترسا کر جان لیتی ہے جو موت ایسے ہوں جس طرح جسم سے جان نکلے اور جسم کے حصوں کو پتہ بھی نہ ہو وہ موت نصیب والو ں کو ملتی ہے ،
اکتیس سالانوجوان سید مزمل حسین شاہ ولد سید گلبہار حسین شاہ اپنے بیوی اور تین بچوں کے ساتھ شرقی گوجرخان ڈہوک پیراں رتالہ میں رہائش پذیر تھا ،والد محترم سید گلبہار حسین شاہ تھے اورسید مزمل حسین شاہ کی تین بھائی سید ابرار حسین شاہ، سید گلریز حسین شاہ (مٹھو شاہ )اور سید وقار حسین شاہ کے ساتھ زندگی بڑی احسن انداز سے گزر رہی تھی والدہ بھی اس دنیا میں نہیں رہی تھیں اور دو بہنیں جو کچھ عرصہ پہلے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئیں تھیں، سید مزمل حسین شاہ کی شخصیت پر وضاحت کچھ ایسی ہے کہ انتہائی شریف النفس نمازی پرہیزگارتھا ،ہر کسی کے دکھ درد میں شریک ہونا دوسروں کے غموں کو اپنا غم سمجھنا وہ اپنا بنیادی فرض سمجھتا تھا ،پورہ علاقہ اس کی نیک نیتی کے گن گاتا تھا ،چاند رات کو جہاں ہر مسلمان عید کی تیاریاں میں مصروف نظر آتے ہیں اس خوشی کے پرمسرت موقع پر وہ رات کو سوتے بھی نہیں اس وقت سید مزمل حسین شاہ اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے والوں کی خدمت میں لگا ہوا تھا ان کو گھر تک چھوڑنا اور گھر کے تمام کام اپنی نگرانی میں کرانا وہ اپنا فرض سمجھتا تھا کیونکہ محلہ دار اس پر بہت اعتماد کرتے تھے سب اس سے خوش تھے رات دس بجے گھر آنے کے بعد خلاف معمول وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے کمرے میں چلا گیا اور ایک ماہ کے اپنے بچے کو پیار کرنے لگا اور ساتھ ہی یہ فکر کہ صبح جلدی اٹھنا ہے دوستوں کے ساتھ عید کی نماز بھی پڑھنی ہے فوت شدہ ماں اور بہنوں کی قبر پر چادر بھی چڑھانی ہے اور پھول بھی ڈٖالنے ہیں بچوں کو عید کے موقع پر پیار کرنا ہے بوڑھے پاب اوربھائیوں کے گلے ملنا ہے
سید مزمل حسین شاہ ابھی اپنے بستر پر سونے ہی لگا تھا کہ اس کو دل کے مقام پر درد ہونے لگا پاس بیٹھی بیوی پریشانی میں باقی گھر والے سب دوڑتے ہوئے آئے لیکن سید مزمل حسین شاہ کو اپنے گھر والوں سے بھی زیادہ جلدی تھی اہارٹ اٹیک کی وجہ سے سید مزمل حسین شاہ کی روح اس دنیا فانی سے پرواز کرچکی تھی اس کی زندگی بس اتنی تھی س1 2 3 4 5ب کو خوش رکھنے والے کو عید کی خوشیاں نصیب نہ تھیں ،اپنے ایک ماہ کے بچے کا عقیقہ اپنے ہوتے ہوئے نہیں کروانا تھا ،صبح نماز عید کے بعد دوستوں سے عید ملنا نصیب میں نہ تھا ،بیوی بچوں کو عید کے موقع پر نئے کپڑے پہنتے ہوئے دیکھنا نصیب میں نہ تھا ،بوڑھے باپ کا دیدار کرنے کا وقت ختم ہو چکا تھا ،بھائیوں سے عید ملنا نصیب میں نہ تھا ماں اور اس کے دو بہنوں کی قبر پر چادر اپنے ہاتھوں سے چڑھانا اس کے نصیب میں نہ تھا چاند رات کو سید مزمل حسین شاہ کی فوتگی کی خبرجنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہر کسی کی اآنکھ اشکبار تھی چاہیے اپنا ہو یا پرایا سب کو خوش رکھنے ولا خوبصورت نوجوان سب کو دکھ اور پریشانی میں مبتلا کر کے خود اصل منزل کا مسافر بن چکا تھا ،ایک طرف پورا عالم اسلام عید کی نماز ادا کر رہا تھا دوسری طرف سید مزمل حسین شاہ کی نماز جنازہ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں ہر طرف عید کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں تودوسری طرف ڈہوک رتالہ پیراں رتالہ کہ فضا سوگوار تھی ہر آنکھ اشکبار تھی شیخ جاوید جو اسلام پورہ جبر میں کپڑے کا کام کرتے ہیں جن کے پاس سید مزمل حسین شاہ نے چودہ سال کام کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے سے محروم ہو گیا ہوں وہ میرا بھی بیٹاتھا اتنا شریف لائق قابل بیٹا پھر نہیں مل سکے گا وہ ہیرا تھاساتھ کام کرنے والے دوست یاسر محموداور محمد قیوم کے مطابق سید مزمل حسین شاہ انتہائی نیک اور مخلص انسان تھا اسکی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ کسی سرکاری نوکری میں لگ جائے اس بات کا اظہار وہ اپنے دوستوں سے اکثر کیا کرتا تھا اپنے والدین کا لاڈلہ ،بیوی کے سر کا تاج ،بچوں کی کل کائنات ،ننھی سعدیہ مزمل اور ایمان مزمل ابھی بھی اپنے باپ کا راہ دیکھ رہی ہیں ابو آئیں گئے تو عید کے کپڑے پہنیں گی،اور عید کی خوشیاں منائیں گی دوست یاروں کا یار سب کو چھوڑ کر اصل منزل کی طرف چل چکا تھاکتنی خواہشیں تھیں کتنے ارمان تھے سب کے سب ادھورے رہ گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*