بریکنگ نیوز

عید سے عید پیدا کریں

10583931_691865870892518_3973815439583838186_nتحریر: مہر احسان خان ایڈووکیٹ

حضرت رابعہ بصری ریاضت و معرفت کا بلند نام، اولیاء اﷲ میں معتبر اور زیشان مقام رکھتی ہیں آپ پردہ نشینیوں کی مخدومہ،عشق، درد اور کرب الہٰی کی شفیتہ تھیں آپ نے خدا پرکامل یقین کے بہترین سبق دئیے ہیں لوگ رزق حلال کی تلاش کی آرزو کرتے اور حضرت رابعہ بصری کے در پر حاضر ہو جاتے آپ کے پاس جو کچھ میسر ہوتا آپ اُٹھا کر بھوکوں کے سامنے رکھ دیتیں آپ کے پاس دو روٹیاں تھیں دو افراد حاضر ہوئے اور کھانے کی فریادکی اور آپس میں رزق حلال کی گفتگو کرنے لگے آپ نے وہی دو روٹیاں ان افراد کے سامنے رکھ دیں اسی دور ان ایک سائل دروازے پر دستک دیتا ہے آپ نے سائل کو خالی موڑنا مناسب نہ سمجھا آپ نے وہی دو روٹیاں سائل کے حوالے کر دیں وہ افراد حیرت کے روبوٹ بن گئے مگر آ پ پر اطمینان ہو گئیں اسی دوران ایک کنیز گرم روٹیاں لئے حاضر ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ سرکار یہ روٹیاں میری مالکہ نے بھجوائی ہیں آپ روٹیاں گنتی ہیں تو وہ اٹھارہ بنتی ہیں آپ کنیز کو فرماتی ہیں کہ یہ روٹیاں میری نہیں ہیں تمہاری مالکہ کو غلط فہمی ہوئی ہے تم یہ واپس لے جاؤ مگر کنیز اصرار کرتی ہے کہ جناب یہ روٹیاں آپ کی طرف بھیجی گئی ہیںآپ کی ہی ہیں مگر آپ روٹیاں کنیز کو واپس بھجوا دیتی ہیں بات کنیز کی مالکہ کے پاس پہنچتی ہے مالکہ روٹیاں گن کر مزید دو روٹیوں کا اضافہ کر دیتی ہے کنیز دوبارہ حاضر ہو جاتی ہے آپ روٹیاں گن کر بھوکے افراد کے سامنے رکھ دیتی ہیں افراد شش و پنج کی فضاء میں کھانا شروع کر دیتے ہیں اور جاتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ حضور یہ حکمت ہم پر بھی عیاں کر دیں آپ نے فرمایا کہ یہ حکمت نہیں یہ خدا کا وعدہ ہے تم لوگ جب آئے تو تم بھوکے تھے میرے پاس دو روٹیاں تھیں میں نے وہ تمہارے سامنے رکھ دیں مگر سائل آیا تو اس نے اﷲ کے نام کی صدا لگائی میں نے روٹیاں سائل کو دیں اور ا ﷲ کی بارگاہ میں اﷲ کا وعدہ عرض کر دیا خدا کا وعدہ ہے کہ ایک کے بدلے دس دوں گا میرا خدا کی ذات پر کامل یقین تھا کہ وہ مجھے ایک کے بدلے دس ضرور بھیجے گا اور خدا نے مجھے شرمندہ نہیں کیا کنیز جب اٹھارہ روٹیاں لائی تو مجھے احساس ہو گیا کہ یہ روٹیاں میری نہیں یہ خدا کا وعدہ نہیں آیا بلکہ کنیز کو غلط فہمی ہوئی ہے میں نے اس وجہ سے روٹیاں واپس کر دیں اور کنیز جب دوبارہ بیس روٹیاں لے کر آئی تو میں نے وعدے کی تکمیل میں لے لیں میں نے اﷲ کے نام پر دو دیں اﷲ نے مجھے بیس بھجوا دیںیہ یقین کی دولت ہے یہ کامل یقین کے ذرے ہیں یہاں سے قرب خدا کی پکی سیڑھیاں تعمیر ہوتی ہیں ہم روز توکل کی کچی سیڑھیاں تعمیر کرتے ہیں جو شیطان کی ہلکی سے پھونک سے گر جاتی ہیں اس سال کا رمضان مبارک ،رحمت ، مغفرت اور نجات کے پھل تقسیم کر کے اوجھل ہو رہا ہے رمضان کریم کی رحمتیں اور برکتیں ہر گھڑی برستی رہیں ہر مسلمان نے اپنی محنت ،خلوص،ہمت اور نیت کے عوض یہ رحمت و مغفرت کے پھل اپنے اعمال کی گٹھٹری میں چھپا لیئے ہر لمحہ ابررحمت کی چھتریاں تنی رہیں۔اور ہر سو ذکر خدا درود و سلام اور تلاوت کلام پاک کے دئیے جلتے رہے یہ بابرکت مہینہ لوگوں کے دلوں میں صبر و شکر اور تحمل و برداشت کی کونپلیں اگا کر آخر میں عید الفطر کی شکل میں انعام دینے جا رہا ہے عید کا دن ہر فرد ہر گھر ہر خاندان اور ہر معاشرہ اپنی حد ،اوقات رواج اور جیب کے وزن کے مطابق انجوائے کرتا یہ روزوں کے دن اور رات خالصتاًحقوق اللہ سے منسوب ہوتے ہیں ان دنوں میں ہم اپنی پوری توجہ دھیان خلوص و نیت سے حقوق اللہ ادا کرنے میں لگے رہتے ہیں مگر عید کی خوشیاں خریدتے وقت ہم حقوق العباد کو ہلکا سا touch کر سکتے ہیں عید کا دن ہر بستی ،کوچہ ،قریہ اور نگر میں اترتا ہے جس طرح فروٹ کی ہر پیٹی میں چند کمزور دانے ہوتے ہیں اسی طرح ہمارے آس پاس خاندان گلی محلہ اور معاشرے میں کچھ لوگ ہماری مدد اور وسیلے کے ضرورت مند ہوتے ہیں یہ سب منجانب اللہ ہوتا ہے وہ کسی کو عزت، دولت اور شہرت کے ترازومیں تول دیتا ہے اور کسی کو دو وقت کی روٹی کی مشکلات میں پھنسا دیتا ہے اور دوسری طرف یہ حکمت انسان کے شعوری خانوں میں بیدار بھی کرتا ہے ہمارے مشرق و مغرب میں ان گنت ناموں کے لوگ پھیلے ہوئے ہیں جو سارا سال ہمیں ماتھے پر ہاتھ رکھ کر صاحب جی کہتے رہتے ہیں اور ہم آدھی انگلیوں کا سلام دکھا کر آگے نکل جاتے ہیں ہمیں کم از کم عید کے دن تو یہ امتیاز ختم کرنا چاہیے ہم سارا سال اپنی خوشیوں اور ضرورتوں کو ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں اگر ایک دن ان کی ضرورتوں کو پیمانے لبریز کر دیں تو ہمیں بال برابر بھی نقصان نہیں ہوگا بلکہ دعاؤں کی راہ میں بند دروازے کھل جائیں گے ہم اگر اپنے دل و دماغ کو فرصت کی بیٹھک میں لے جائیں تو ہمیں ایسے کئی ماں باپ ملیں گے جو اپنے بچوں کو عید کے کپڑے اور جوتے دلانے کے جتن میں پریشان ملیں گے ۔مہنگائی سپرنگ کی طرح اچھل رہی ہے عام آدمی کی قوت اخراجات کے مخالف آ گئی ہے ہم تھوڑی سی ہمت کر کے مسکین ،یتیم اورحقدار کو کپڑے اور جوتے لے کر دے سکتے ہیں یہ ضروری تو نہیں کہ ہم اپنی خوشیوں اور خواہشوں کے آگے ہاتھ باندھ لیں یا پھر دل کو ’’سرِ تسلیم خم ہے ‘‘کی سند دے دیں ۔ ہمارے گھر عید آئی ہے تو ہم کو کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ایسے گھر بھی عید کی خوشیاں لائیں جہاں عید کی خوشیاں نہیں پہنچ سکیں ہمیں وہ گھر ، وہ چہرے، وہ جسم تلاش کرنے چاہیے جن گھروں میں عید کی ترنگ نہ ہو چہروں پر باسی اداسی بکھری ہو آنکھوں میں عید کی چمک نہ ہو اور جسموں پر نئے کپڑے نہ ہوں کھانے فریج میں پڑے رہنے سے باسی اور کپڑے الماریوں میں پڑے رہنے سے بوسیدہ ہو جاتے ہیں ہم اگر تھوڑی سی ہمت اور نیت کریں تو کھانے باسی ہونے اور کپڑے پرانے ہونے سے بچ سکتے ہیں کسی کے استعمال میں آ جائیں گے اور روزوں کے اجر و ثواب پر مہر لگ جائے گی بس نیت اور ہمت کی ضرو رت ہے اپنے گھر میں عید آنے سے پہلے کم از کم کسی ایک گھر میں عید ضرور پیدا کریں جو عید کی خوشیاں نہیں خرید سکے عید کی خوشیاں تو سانجھی ہوتی ہیں ہمیں خود یہ جذبے پروموٹ کرنے پڑھیں گے غریبوں کی مدد کرنا ،مسکینوں کی دلجوئی کرنا، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا، حقداروں کی ضرورتیں پوری کرنا ، ٹوٹے دلوں کو دلاسے دینا، ضرورت مندوں کا حال پوچھنا ، کمزور لوگوں کی خدمت کرنا، یہی انسان کو وجود میں لانے کا راز ہے ۔ اور یہ بات جھیل کے پانی کی طرح شفاف ہے کہ یہ سب ارادے ،نیت، خلوص، اور احساس رائیگان نہیں جاتے۔کیونکہ اللہ پاک نے ہماری خوشیوں اور دکھ درد کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے ہم انسان ہی ایک دوسرے کے کام آئیں گے اس کام کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں اتریں گے اگر یہ جذبے ہمارے دلوں میں راکھ بن گئے تو پھر ہم خود کو انسان کی تعریف میں نہیں دیکھ پائیں گے یہی نیکی اور ثواب کی سیڑھیاں ہیں ہم انسانوں نے ہی یہ سیڑھیاں چڑھنے میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے یہی ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا راز ہے ۔ اور یہ دلی ارادے اور سچے جذبے انسان کو سکون و اطمینان کی پالکی میں سوار کر دیتے ہیں ورنہ عبادتیں اور نیکیاں نظر نہیں آتیں انسانیت کے اپنے اپنے گملوں میں شریعت کی مٹی ڈالیں خوفِ خدا محبت رسول ﷺ ،رحمت دلی ،ہمدردی ، دل جوئی ، درگزر،صبر و شکر، سخاوت اور عجز و انکساری کے بیج پھینکیں ، توبہ استغفار کا پانی دیں کیونکہ یہی سب ایمان کے پھول بن کر کل ہمیں قرب خدا کی خوشبو تک رسائی دیں گے ورنہ ہم بس جنت کے چکروں میں پڑے رہیں گے۔آپ بھی دل کی زمین کو سو ز ہ مٹی دیں پھر اس میں حضرت رابعہ بصری والے کامل یقین کے بیج کا چھاٹا ماریں اس رب کی بارگاہ میں ایک دیں، وہ آپ کو ایک کے بدلے دس دے گا یہ اس کا وعدہ ہے اس ذات کا وعدہ جو صرف ایک انسان ،بستی یا ملک کا نہیں کل عالم کا پالنہار ہے ان عالم کا جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہیں جب یہ یقین جوان ہو جائے گا تو پھر زندگی کے ہر گوشے میں ہریالی پھیل جائے گی اور خدا ہمارے ارد گرد رونقیں لگا دے گا۔(عید مبارک)
تحریر: مہر احسان خان ایڈووکیٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*