بریکنگ نیوز

کہوٹہ سب ڈویڑنل فارسٹ آفیسر ارشاد اللہ کو لکڑی چوروں نے مار مار کر شدید زخمی کر دیا

timthumb
کہوٹہ(نمائندہ راول نیوز)سب ڈویڑنل فارسٹ آفیسر ارشاد اللہ گوندل کو لکڑی چوروں نے مار مار کر شدید زخمی کر دیا۔ رات کی تاریکی میں چوری شدہ سرکاری لکڑی سرکاری جنگل سے بااثر لکڑی چور لکڑی لوڈ کر رہے تھے کہ محکمہ جنگلات کاعملہ اور افسران موقع پر پہنچ گئے۔لکڑی چوروں کا سرغنہ اور متعدد مقدمات میں تھانہ کہوٹہ کا اشتہاری انصف عرف تارا اپنے دیگر 20سے زائد افراد جو کہ اسلحہ ، کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے مسلح تھے نے اچانک محکمہ جنگلات کی ٹیم پر دھاوا بول دیا۔ ایس ڈی ایف او کے بازو پسلیاں ٹوٹ گئے۔ جبکہ دیگر ملازمین بھی زخمی ہو گئے۔ شدید مار پیٹ کے بعد لکڑی چوروں نے ایس ڈی ایف او کو پہاڑ کے اوپر سے نیچے دھکا دے دیا۔ جنگل میں بے ہوش اور بے یارو مدد گار پڑے محکمہ جنگلات کے عملہ بارے محکمہ کو اطلاع چرواہے نے دی۔ پولیس تھانہ کہوٹہ نے زیر دفعہ 379/411, 506II/34, 353/186 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ بااثر شخصیات لکڑی چوروں کی پشت پناہی کرتے ہوئے میدان میں گود پڑیں۔ تفصیل کے مطابق پولیس تھانہ کہوٹہ سے تقریباً 22کلو میٹر دور یونین کونسل بیور کے نزدیک گاؤں گھون ، داخلی جنٹل میں لکڑی چور اور ٹمبر مافیا کے اہلکاران لکڑی کی غیر قانونی کٹائی کے بعد چوری شدہ سرکاری لکڑی لوڈ کر رہے تھے کہ ایس ڈی ایف او ارشاد اللہ گوندل ہمراہ فارسٹ گارڈ محمد سلیم، سلیم الرحمن اور مقبول احمد نے ریڈ کر دیا۔ پولیس تھانہ کہوٹہ میں مقدمہ درج کراتے ہوئے ایس ڈی ایف او ارشاد اللہ گوندل نے بتایا کہ جیسے ہی ہم نے چھاپہ مارا تو جنگل نمبر 77 گھون سے ثقلین ولد نامعلوم ہمراہ دیگر تین افراد سرکاری لکڑی سرکاری جنگل سے لوڈ کر رہے تھے۔ چوری شدہ لکڑی کو دفتر لانے کے لئے ڈرائیور نے ٹریکٹر سٹارٹ کیا ہی تھا کہ اچانک اشتہاری انصف عرف تارا ولد عجائب سکنہ آنور کی قیادت میں 21افراد آگئے۔ انصف عرف تارا ولد عجائب کے ہاتھ میں 223بور بندوق جبکہ دیگر افراد محسن اور عمیر پسران انصف جو کہ کلہاڑیوں سے مسلح تھے۔ ان کے ہمراہ دیگر 18افراد کے ہاتھ میں مختلف قسم کے ڈنڈھے تھے۔ انصف ولد عجائب نے للکارتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی او رآوازیں دیں کہ ان کو اتنا مارو کہ یہ جان سے مر جائیں۔ اسی اثناء4 میں محسن اور عمیر نے مجھے ڈنڈوں اور الٹی کلہاڑیوں سے میرے سینے بازو پر وار کیے۔ انصف نے بندوق کا بٹ میری بائیں سائیڈ پر کمر پر مارا اور میرے کپڑے پھاڑ دیئے اس دوران میری پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ جبکہ دیگر 18نامعلوم افراد نے محکمہ جنگلا ت کے ملازمین فارسٹ گارڈ سلیم ، فارسٹ گارڈ سلیم الرحمن اور مقبول احمد چوکیدار پر دھاوا بول دیا اور بے دریغ ڈنڈے مارنا شروع کر دیے۔ بعدازاں انصف ولد عجائب اور عمیر ولد انصف ، محسن ولد انصف نے مجھے پہاڑ کے اوپر سے نیچے دھکا دے دیا جس سے میں ساری رات بے یارو مدد گار بے ہوش جنگل میں پڑا رہا۔ مکھن نامی چرواہے نے محکمہ کو اطلاع دی جس پر باقی عملہ نے مجھے آکر وصول کیا۔ جبکہ محمد سلیم فارسٹ گاڑ کو بھی لکڑی چوروں نے شدید مارپیٹ کے بعد جنگل میں پھینک دیا اور سلیم الرحمن فارسٹ گارڈ اور چوکیدار مقبول احمد کو لکڑی چور اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔ اور گھر کے پاس قبرستان میں لے جا کر تشدد کر تے رہے۔ پولیس تھانہ کہوٹہ نے لکڑی چوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تاہم بااثر شخصیات کی پشت پناہی کی وجہ سے لکڑی چوروں میں سے کوئی بھی ملزم تاحال گرفتار نہ ہوا ہے۔ لکڑی چوروں کا سرغنہ جو کہ موقع سے فرار ہوا ہے پولیس تھانہ کہوٹہ کے متعدد مقدمات میں اشتہاری ہے اور پولیس کو مطلوب ہے۔ ایس ڈی ایف او جنگلات ارشاد اللہ گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ لکڑی چوروں کا سرغنہ انصف المعروف تارا منشیات ، ہیروین اور گاڑیاں ٹمپرڈ کرنے کے مقدمات سمیت متعدد دیگر مقدمات میں اشتہاری اور پولیس کو مطلوب ہے۔ پولیس بااثر سرغنے کو عرصہ سے گرفتارکرنے میں ناکام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*