بریکنگ نیوز

مٹی اٹھانے پر تصادم ،فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی مقدمہ درج

کہوٹہ(291189-policereuters-1411761596-215-640x480-300x225) مٹی اٹھانے پر تصادم ،فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی مقدمہ درج ،پولیس تھانہ کہوٹہ نے محمد احسان ولد محمد اشرف سکنہ ترکھی کی درخواست پر کامران عابد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا،محمد احسان نے تھانہ کہوٹہ میں تحریری درخواست دی کہ میں دس بجے دن ہمراہ زعفران اور لیاقت حسین جو میرے ساتھ ڈی ایچ اے میں ملازمت کرتے ہیں حسب معمول اپنی ڈیوٹی پر ڈی ایچ اے کی مشینری کی نگرانی کررہے تھے کہ اسی اثناء میں کامران عابد ولد غلام عابد سکنہ بھون مسلح پسٹل30بور،عاصم مسلح کلاشنکوف سکنہ سدیوٹ جبکہ ان کے ہمراہ 8،9آدمی اور بھی تھے جبکہ ہم ڈی ایچ اے کی زمین سے مٹی لوڈ کرارہے تھے ،مندرجہ بالا اشخاص نے ہمیں ڈی ایچ اے کے ڈھیروں سے مٹی اٹھانے سے روک دیا ، عاصم اور مبین نے کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ شروع کر دی اور کامران عابد کو کہا کہ بچے جا کر ان کو ایسا سبق سکھاؤ کہ آئندہ ڈی ایچ اے کا کوئی ٓدمی اس طرف نہ آئے،اسی دوران کامران عابد دوڑ کر نیچے آیا اور مجھ پر پسٹل کا سیدھا فائر کیا جو کہ میرے آلہ تناسل کو چھوتا ہوا دائیں ران پر لگا اسی اثناء میں کامران عابد کے پسٹل میں گولی پھنس گئی ،اس دورنا کامران کے دیگر ساتھیوں نے پتھراؤ شروع کردیا جو کہ کامران کے ماتھے پر لگاجو زخمی ہو کر زمین پر گر گیا جس پر زعفران اور لیاقت نے کامران کے ہاتھ سے پسٹل لے لیا،پولیس تھانہ کہوٹہ نے زیر دفعہ148/149اور324کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے،
جبکہ ملک کامران عابد ولد غلام عابد سکنہ بھون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں سابق ایم این اے حنیف عباسی کی میڈیسن فیکٹری میں گارڈ کی ڈیوٹی کرتا ہوں اور آج ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد واپس گھر آرہا تھا تو دیکھا کہ فیاض جنجوعہ ہمراہ 45سے50بندے مسلح کلاشنکوف اور پسٹل ہماری زمینوں سے مٹی اٹھا رہے ہیں جس پر میں نے منع کیا کہ آپ لوگ مٹی نہ اٹھائیں کیونکہ آپ لوگ ہمیں اس کی رائلٹی نہیں دیتے جس پر ان لوگوں نے مجھے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا اورہوائی فائرنگ بھی شروع کر دی،مجھے پکڑکر مارنا شروع کردیا جس سے میں شدیدزخمی ہوگیا،مجھے شدید زخمی حالت میں یہ لوگ اٹھا کر تھانہ کہوٹہ لے آئے اور میرے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا ہے،انہوں نے کہا کہ فیاض جنجوعہ ایک بااثر شخص ہے اور پراپرٹی کا کام کرتا ہے وہ ہمیں جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ہماری ملکیتی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*