بریکنگ نیوز

موہڑہ وینس چوری کیس کا ڈرامائی ڈراپ سین

کہوٹہ(download2)موہڑہ وینس چوری کیس کا ڈرامائی ڈراپ سین ،چور گھر کے بھیدی نکلے ،تفصیلات کے مطابق غلام اختر ولد فضل خان قوم وینس راجپوت سکنہ کنوہا موہڑہ وینس نے تھانہ کلرسیداں میں تحریری درخواست دی کہ مورخہ16-05-2015کو صبح 8بجے کے قریب میں اپنے گھر سے راولپنڈی روانہ ہوا اور اپنے مکان کا کرایہ لینے کے بعد تقریباًدن ایک بجے کے قریب جب واپس گھر پہنچاتو دیکھا کہ گھر کے تالے ٹوٹے ہوئے ہیں ،میرے بیڈ روم کا دروازہ ٹوٹا ہوا تھا جب اندر جا کر پڑتا ل کی تو پتہ چلا کہ میرے کمرے سے نقدی پاکستانی تین لاکھ روپے ،1500امریکی ڈالر،300پونڈ اور کیری ڈبہ نمبری آر آئی اے -305کی رجسٹریشن بک،ڈرائیونگ لائسنس،لائسنس 30بورپسٹل،لائسنس 12 بور ،ایک عدد پاسپورٹ ،امریکن شناختی کارڈ،ایک عدد کڑا طلائی وزن دو تولے،دو عدد طلائی انگوٹھیاں وزن1/1تولہ بچوں کے امریکن کاغذات،پاکستانی نادرہ اور کچھ زمین کے کاغذات چوری کرکے ساتھ لے گے ہیں ،اور مجھے قوی یقین ہے کہ یہ کام عبدالغفور اور محمد عدیل پسران منظور حسین سکنہ موضع دیہہ نے کی ہے کیونکہ ان دونوں کی حرات بھی مشکور نظر آرہی ہیں جس پر پولیس تھانہ کلرسیداں نے زیر دفعہ454/380کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش اے ایس آئی مظہر کے سپرد کی جنہوں نے دن رات کی تگ و دو کے بعد موبائل فونز کے ڈاٹا حاصل کئے اور ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گے ،پولیس تھانہ کلرسیداں نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے عبدالغفور اور محمد عدیل پسران منظور حسین کو گرفتار کرلیا جنہوں نے ابتدائی تفتیش میں چودری کی واردات کا اعتراف کیا اور چوری شدہ اشیاء کی نشاندہی کی جس پر تفتیشی آفیسر اے ایس آئی مظہر نے چورہ شدہ اشیاء میں سے کچھ چیزیں برآمد کرلیں،دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ غلام اختر کے گھر ہونے والی چوری کی واردات میں غلام اختر کا بھانجا محمدضمیر عرف ببو ولد صغیر حسین،بھتیجازین العابدین ولد غلام صفدراور اسامہ ولد محمد سعید جو کہ غلام اختر کا قریبی رشتہ دار ہے بھی شامل تھے اورزین العابدین نے کمرے کا دروازہ توڑکر اندر داخل ہوا تھا ۔ملزمان نے مزید انکشاف کیا کہ چوری کی تمام تر منصوبہ بندی امریکہ میں رہائش پزیر تسخیر حسین ولد صغیر حسین جو کہ غلام اختر کا بھانجا بھی ہے اور داماد بھی ہے نے تیار کی تھی اور وہی اس ساری واردات کا ماسٹر مائنڈ ہے ،غلام وحید نے مزید بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے بیان دیا ہے کہ چوری کی واردات سے پہلے غلام اختر کا بھتیجا زین العابدین بنک چوک کنوہا گیا اور وہاں ایک دوکان سے آری بلیڈ لیا جوچوری کی واردات میں تالے کاٹنے کیلئے استعمال کئے گے ،اور ملزمان کے یہ بیانات مثل مقدمہ کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں،غلام اختراور وحید احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ دو ملزمان کی گرفتاری کے بعد پولیس تھانہ کلرسیداں باقی ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ، یہاں تک کہ چند دن پہلے گرفتار ملزمان کے انکشاف کے بعد محمدضمیر عرف ببو،بھتیجازین العابدین اور اسامہ تھانہ کلرسیداں آئے تو پولیس تھانہ کلرسیداں نے انہیں گرفتار کرنے کی بجائے وی آئی پی پروٹوکول دیا،وحید احمدنے میڈیا کو بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ کلرسیداں چوہدری محمد الیاس گجر کے کارخاص قیصر نے مجھے فون کیا اور کہا کہ دوسری پارٹی تو5لاکھ روپے کی آفر کررہی ہے اب آپ بتائیں کہ آپ کیا کریں گے تو میں نے اسے جواب دیا کہ ایک تو ہماری چوری ہو گئی ہے اور اوپر سے آپ لین دین کی بات کررہے ہیں ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ آپ کے ساتھ مک مکا کریں ،جس پر کارخاص قیصر خاصا ناراض ہوا اس کے بعد پولیس تھانہ کلرسیداں کا رویہ تبدیل ہو گیا۔ غلام اختر نے الزام عائد کیا کہ پولیس تھانہ کلرسیداں کے افسران نے ملزمان سے بھاری نذرانہ لے کر مک مکا کرلیا ہے اسی لئے دوسرے ملزمان کو گرفتار نہیں کررہی،غلام اختر نے مزید کہا کہ گزشتہ روز تفتیشی آفیسر اے ایس آئی مظہر نے مجھے تھانہ بلا کربتایا کہ کل11بجے دی ایس پی کہوٹہ کلرسیداں سرکل آپ کے مقدمہ کی انکوائری کیلئے آرہے ہیں لہذا آپ وقت پر تھانہ پہنچ جانا،میرے سامنے تفتیشی آفیسر اے ایس آئی مظہر نے ملزمان کو فون کر کے مطلع کیا کہ کل انکوائری ہے آپ نے لازمی انکوائری میں آنا ہے،آج صبح10بجے ہم تھانہ کلرسیداں آگے اور تفتیشی آفیسر سے فون پر رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ میں راولپنڈی عدالت میں آیا ہوں ،آپ میرا انتظارکریں ہم لوگ شام3بجے تک تفتیشی آفیسر کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ نہ آیا تو ہم نے دوبارہ رابطہ کیا تو تفتیشی آفیسر نے کہا کہ آپ ڈی ایس پی کہوٹہ کلرسیداں ملک اعجاز صاحب کے سامنے پیش ہو جائیں ،ہم لوگ جب ڈی ایس پی کہوٹہ کلرسیداں ملک اعجاز کے سامنے تھانہ کلرسیداں میں پیش ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو آ پ کو نہیں بلایا نہ میں نے کوئی انکوائری کرنی ہے آپ کو تفتیشی آفیسر نے بلایا ہے تو اس سے مل لیں جس پر ہم واپس آگئے،غلام اختر نے مزید کہا کہ پولیس تھانہ کلرسیداں نے بلا وجہ ہمیں تھانہ کلرسیداں بلا کر بٹھائے رکھا ہم پورا دن ذلیل و خوار ہوتے رہے، غلام اختر نے مزید کہا کہ ملزمان مجھے اور میرے دیگر عزیزو اقارب کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور دباؤ ڈال رہے ہیں کہ میں مقدمہ کی پیروی کرنا چھوڑ دوں،غلام اختر نے ایس ایس پی آپریشن کرامت اللہ ملک کی کلرسیداں میں منعقدہ کھلی کچہری میں پیش ہوکر شکایت کی کہ پولیس تھانہ کلرسیداں نے دو ملزمان گرفتار کرلئے ہیں لیکن پولیس باقی ملزمان کوگرفتار کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے جس پر ایس ایس پی آپریشن کرامت اللہ ملک نے فوری اکشن لیتے ہوئے باقی ملزمان کی گرفتاری کا حکم صادر کیا۔غلام اختر نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف،آئی جی پنجاب ،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان،آر پی او راولپنڈی فخر وصال سلطان راجہ ،سی پی او راولپنڈی اسرارعباسی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ مجھے انصاف فراہم کیا جائے اور باقی ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*